جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں 5اکتوبر کو آر کیٹیکچر اور ایکٹیکسٹکس فیکلٹی کے زیراہتمام اسرائیل کے تعاون سے ایک عالمی کانفرنس منعقد ہوئی تھی جسکا عنوان (عالمی صحت زینت سنگم 19) تھا جسکے خلاف طلبہ مظاہرہ کررہے تھے

۔جسمیں اسرائیل کی شرکت کو لیکر جامعہ کے طلبہ راضی نہیں تھے۔طلبہ کا کہنا تھا اس یونیورسٹی میں ایسی بہت سی مسلم وراثت ہے ۔جسمیں کسی بھی طرح کا اسرائیل کے ساتھ ہاتھ نہیں ملایا جا سکتا ہے ۔اس پروگرام کے انعقاد پر جامعہ کے طلبہ کی طرف سے پہلے ہی سے بائیکاٹ کا اظہار کیا گیا تھا ۔یہ احتجاج کانفرنس ہال کے باہر تقریبا ایک گھنٹہ پرامن طور پر چلا ۔اسی درمیان یونیورسٹی کے ہیڈ آفس نے مظاہرہ کررہے طلبہ کو بلالیا ۔طلبہ کا کہنا کہ انکے ساتھ اس دوران بدتمیزیاں اور مار پیٹ کی گئی اور انھیں پکڑ کر دفتر کے احاطے میں بند کردیا گیا ۔بعد میں احتجاج کی قیادت کرنے والے 5طلبہ کو شو کاز نوٹس جاری کردیا۔جس پر طلبہ برادری نے اعتراض کیا۔

اس موقع پر اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا ( ایس آئی او )کے قومی جنرل سکریٹری اظہر الدین نے آج ایک پریس کانفرنس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا غیر جمہوری اقدام کے خلاف سات اکتوبر سے اب تک پوری قوت کے ساتھ احتجاج جاری ہے اظہر نے کہا جن 5طلبہ کے خلاف وجہ بتاؤ نوٹس جو جاری کیا گیا ہے اسکو منسوخ کیا جائے ۔انھوں کہا وائس چانسلر آفس کے سامنے احتجاج جاری ہے اور ان افسران کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے جو طلبہ پر ہوئے حملے کے ذمہ دار ہیں حملہ آوروں کے خلاف طلبہ جامعہ نگر پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے ایف آئی آر تک نہیں لکھا۔( ایس آئی او )نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہم اس معاملے کو پوری قوت کے ساتھ صدر جمہوریہ ہند تک لے جائنگے۔

اسکے علاوہ قومی سکریٹری (ایس آئی او) شبیر سی کے
عائشہ رانا این (جے ایم آ ئی )
لدیدہ فرسانہ (جے ایم آ ئی)
آصف اقبال (جے ایم آ ئی )
قاسم عثمانی (جے ایم آ ئی)
احمد قاسم (جے ایم آ ئی)
وغیرہ نے پریس کے سامنے اپنی بات رکھی !